ویب ڈیسک: اسرائیل نے جمعہ کی علی الصبح ایران پر حملہ کرکے باقاعدہ جنگ کا آغاز کیا تو پھر ایران نے 200 سے زائد میزائل داغ کر اسرائیل کے خلاف انتقامی کارروائی شروع کی جو اب تک جاری ہے۔
اسرائیل نے ایران میں درجنوں مقامات پر فضائی حملے کیے جن میں فوجی قیادت کی رہائش گاہوں اور فوجی و جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی حملوں میں 6 سائنسدانوں سمیت ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ جنرل حسین سلامی، ایرانی فوج کے چیف آف اسٹاف جنرل باقری ، ختم الانبیا ہیڈ کوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل غلام علی راشد اور دیگر سینئر افسران شہید ہوگئے۔
بعد ازاں ایران کی جانب سے آپریشن وعدہ صادق سوم کے نام سے جوابی کارروائی کی گئی اور 4 مرحلوں میں200 سے زائد میزائل اسرائیل پر داغے گئے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایرانی میزائل حملوں کے دوران اب تک 4 اسرائیلیوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ زخمیوں کی تعداد 60 سے زیادہ ہے۔
اسرائیل میں ہونے والی تباہی کے مناظر:
ایرانی اور دیگر متعدد عالمی خبر رساں ایجنسیوں نے سوشل میڈیا پر تل ابیب اور اس کے ملحقہ علاقوں میں ہونے والے نقصان کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کیں۔
Scenes of destruction in Tel Aviv after Iran responded to the brutal attacks it has faced since this morning.
— Eye on Palestine (@EyeonPalestine) June 13, 2025
مشاهد للدمار في تل ابيب pic.twitter.com/h3uWyU2dDq
WATCH: Damage area in Ramat Gan after Iran retaliates against Israel. pic.twitter.com/V6gTQxRXP1
— Fox News (@FoxNews) June 14, 2025
امریکی چینل فاکس نیوز کی جانب سے تل ابیب کے ساتھ موجود رمات گان کی ویڈیو شیئر کی گئی جس میں عمارتوں اور گاڑیوں کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
اس کے علاوہ ایرانی میڈیا کی جانب سے تل ابیب میں ایران کے میزائل حملوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی دکھائی گئی۔
Footage shows the aftermath of Iran’s retaliatory missile attack on Tel Aviv.
— Press TV (@PressTV) June 14, 2025
Follow Press TV on Telegram: https://t.co/LWoNSpkJSh pic.twitter.com/rfMaHb9Hq3
اس کے علاوہ تل ابیب پر حملے کے وقت کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے۔
#BREAKING
— Tehran Times (@TehranTimes79) June 13, 2025
New Iranian strikes reported in Tel Aviv. pic.twitter.com/Yg5ZsZNyZh
واضح رہے کہ اسرائیلی دفاعی اداروں کا کہنا ہے کہ ایران سے جنگ کم از کم دو ہفتے جاری رہ سکتی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران پر حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا اور کہا کہ ایران کی میزائل تیاری کی صلاحیت کو مکمل تباہ کر دیں گے، ایران کے خلاف جاری کارروائیوں کا کوئی ٹائم فریم نہیں دے سکتے۔


